ہم ہی آغاز محبت میں تھے انجان بہت ورنہ نکلے تھے تیرے وصل کی عنوان بہت آئنیہ خانہ ہے حیرت ہے کہ آسیب ہے وہ آنکھ میں رہ کہ بھی کر تا ہے پریشان...

ہم ہی آغاز محبت میں تھے انجان بہت ورنہ نکلے تھے تیرے وصل کی عنوان بہت آئنیہ خانہ ہے حیرت ہے کہ آسیب ہے وہ آنکھ میں رہ کہ بھی کر تا ہے پریشان...
ہمارے دور میں ایسا کبھی ہُوا ہی نہ تھا بدل چکا ہے زمانہ ہمیں پتا ہی نہ تھا جو دشمنوں کو حقیقت کے رو بہ رو کرتا ہمارے دستِ رسا میں وہ آئینہ ...
اُٹھا کے راکھ سے ذرّہ، ستارہ کر کے دیکھیں گے فلک، دریائے حیرت کا کنارہ کر کے دیکھیں گے کسی دن، آگ کے شعلے سے بادل کو بنائیں گے کسی دن، برف ...
میری آنکھ کا ہر اک گوشہ ھی نم رھتا ھے سب کہتے ھیں مجھے تیرا ھی غم رھتا ھے کہاں سے لاؤں وہ گزرا ھوا وقت جاناں! کہاں مسلسل ھی بہار کا موسم رھت...