ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہ...
06:11
Read more »
ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہ...
میری باتوںکا پوگا اثر دیکھنا سب کو آتانہیں یہ ہُنردیکھنا meri batoN ka hoga asar dekhna sab ko aata nahi yeh hunar, dekhna رہ نہ جائے کوئی ب...
ایک تیری چاہت ھے ایک میری چاہت ھے اور ہو گا وہی جو میری چاہت ھے پس!! اگر تو نے سپرد کر دیا خود کو اس کے جو میری چاہت ھے تو میں بخش ...
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم دونوں ہی کو امجدؔ ہم نے بچتے دیکھا کم تاریکی کے ہاتھ پہ بیعت کرنے والوں کا سُورج کی بس ایک کِرن س...
سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام ہر سر میں اِک رنگ دھنک کا تیرے نام جنگل جنگل اڑنے والے سب موسم اور ہوا کا سبز دوپٹہ تیرے نام ہجر کی شام اکیلی...
اقبال ! ترے دیس کا کیا حال سناﺅں دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاﺅں ملتا ہے کہاں خوشہءگندم کہ جلاﺅں شاہین کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا کنجشک فر...
جب سے دیکھا ھے ان کی آنکھوں کو مین خدا کے کمال میں ____ گم ہوں کوئی جسکی نہیں _____ نظیر کہیں جلوہء بے مثال میں _______ گم ہوں یہ نہیں ہے ...
آج تھوڑا سا غم سنا ڈالا میں نے بت کا بھی سر ہلا ڈالا رات آنکھوں سے کیوں شکایت کی شدتِ درد نے رُلا ڈالا خاک ہوتے ، دھواں نہیں ہوتے اُس نے محف...
میں نے رات سے پوچھا میرے گھر سے چوری ہوجانے والا خواب تمہارے پاس تو نہیں؟ میرے ہمسائے کے بچوں کے خواب گھروں میں بیٹھی جوان لڑکیوں کے خواب شہ...
اُس نے کہا ، کہ کلیوں کی مُجھ کو تو جُستجو بھنورے سے مِلتی جُلتی ہے میں نے کہا یہ خُو پُوچھا، بتاؤ درد کو چھُو کر لگا ہے کیا ؟ آیا جواب ، پو...
اے غمِ یار ٹھہر آج کی شب! لگ چکی تیری سیاہی دل پر آچکی جو تھی تباہی ،دل پر زرد ہے رنگ ِ نظر،آج کی شب خاک کا ڈھیر ہوئے خواب نگر آج کی شب اے غ...
اتنا سا ياد ركھ مجهے جيسے كسي كتاب ميں بيتے دنوں كے دوست كا اك خط پڑا هوا ملے لفظ مٹے مٹے سے هوں رنگ اڑا اڑا سا هو ليكن وه اجنبي نه هو بهول...
تیری رحمتوں کے دیار میں تیرے بادلوں کو پتا نہیں ابھی آگ سرد ہوئی نہیں ابھی اِک الاؤ جلا نہیں میری بزمِ دِل تو اُجڑ چُکی، مِرا فرشِ جاں تو سِ...
ہم ہی آغاز محبت میں تھے انجان بہت ورنہ نکلے تھے تیرے وصل کی عنوان بہت آئنیہ خانہ ہے حیرت ہے کہ آسیب ہے وہ آنکھ میں رہ کہ بھی کر تا ہے پریشان...
ہمارے دور میں ایسا کبھی ہُوا ہی نہ تھا بدل چکا ہے زمانہ ہمیں پتا ہی نہ تھا جو دشمنوں کو حقیقت کے رو بہ رو کرتا ہمارے دستِ رسا میں وہ آئینہ ...
اُٹھا کے راکھ سے ذرّہ، ستارہ کر کے دیکھیں گے فلک، دریائے حیرت کا کنارہ کر کے دیکھیں گے کسی دن، آگ کے شعلے سے بادل کو بنائیں گے کسی دن، برف ...